‏خواتین لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏خواتین لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

محسنِ نسواں حضرت محمدنے فرمایا: تمام جائزکاموں میں مجھے سب سے ناپسندیدہ عمل طلاق ہے۔

کوئی تبصرے نہیں

پیر، 5 اکتوبر، 2020

 


طلاق کو اس حیثیت سے ناپسند یدہ قرار دیا گیا ہے کہ اسلام کے مزاج میں رشتوں کو جوڑ نا اور رشتوں میں محبت اور مٹھاس پیدا کرنا ہے لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو سکے اور شوہر بیوی کے ایک ساتھ رہنے میں زندگی اجیرن ہونے لگے تو طلاق ہی احسن بن جاتی ہے اور اسلام اس کیلئے احسن طریقہ بیان کرتا ہے، جو تفصیل سے سورہ ٔطلاق میں موجود ہے۔
اِسلام نے جس طرح مردوں کو طلاق کا حق دیا ہے اسی طرح عورتوں کو خلع کا حق دیا ہے۔ اگر شوہر اور بیوی کو اندیشہ ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے ٹھہر ائے ہوئے حقوق اور واجبات ادانہیں ہو سکیں گے تو باہمی رضامندی سے ایسا ہو سکتا ہے کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحد گی حاصل کرلے۔ قرآن کہتا ہے:اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ دونوں اللہ کی حدوں پر قائم نہ رہ سکیں گے تو ان دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہو جانے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ عورت کچھ دے کر شوہر سے علیحد گی حاصل کرلے، یادر کھو یہ اللہ کی ٹھہر ائی ہوئی حد بندیاں ہیں، پس ان سے باہر قدم نہ نکالو اور اپنی حدوں کے اندررہو، جو کوئی اللہ کی ٹھہر ائی ہو ئی حدبندیوں سے نکل جائیگا تو ایسے ہی لوگ ہیں جو ظلم کرنیوالے ہیں(البقرہ 229)۔

 

 
عورت چاہے تو اپنے نکاح نامے میں کچھ شرطیں رکھ سکتی ہے کہ ان کے پورے نہ ہو نے کی صورت میں وہ شوہر سے طلاق حاصل کر لے۔اس طرح بجاطور پر کہا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید نے قدم قدم پر عورت کے حقوق کا تحفظ کیا ہے۔


جہیز۔۔۔ معاشرے کی تباہی اور بربادی کا ایک سبب

کوئی تبصرے نہیں

 



برصغیر میں خاص طور پر پاکستان اور ہندوستان میں جہیز لینے کا رواج بہت عام ہے۔ کسی لڑکی کی شادی پر لڑکے والے اس سے جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں۔ شادی میں یہ رسم بہت ہی خاص سمجھی جاتی ہے اور بہت سے لڑکے والے شادی کرنے کے لئے کچھ شرائط اور مطالبات رکھ دیتے ہیں اور اگر وہ پوری نہ ہوسکیں تو لڑکی والوں کو انکار کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر گھر، گاڑی، بڑے چیکس وغیرہ اور ان شرائط کو مدنظر رکھتے وقت انہیں یہ خیال تک نہیں رہتا کہ یہ جائز بھی ہیں یا نہیں، حلال ہیں یا حرام۔ آجکل ہائی فیملیز سے لے کر مڈل کلاس فیملیز تک تمام والدین اپنی اولاد کو تعلیم دلواتے ہیں خاص طور پر لڑکے۔ اب لڑکا تعلیم کا شوق نہ رکھنے کی وجہ سے کم پڑھا لکھا ہو یا زیادہ پڑھا لکھا ہو دونوں صورتوں میں لڑکے کے گھر والے جہیز مانگتے ہیں اور نہ ملنے کی صورت میں لڑکی سسرال والوں کے طنز اور طعنوں کا شکار ہوجاتی ہے۔
جہیز میں صوفہ سیٹ ، الکیڑونک کی مختلف اقسام کی چیزیں، برتن وغیرہ شامل ہیں۔ والدین کے پاس اتنا پیسا نہ بھی ہو جب بھی وہ اپنا خون پسینہ ایک کر کے ، قرضوں کے مراحل سے گزر کر اپنی بچی کے لیے جہیز کی بہت سی اشیاء تیار کرتے ہیں کہ کہیں ان کی بیٹی کو شادی کے بعد پوری زندگی سسرال والوں سے طعنے سننے کو نہ ملیں۔ لڑکا جب کماتا ہو اور کسی لڑکی کو نکاح کے بعد اپنے گھر کی عزت بنا کر لا رہا ہو تو وہ اسکی ذمہ داری ہوتی ہے اور اس صورت میں اس کو چاہیئے کہ وہ جہیز لینے سے منع کردے البتہ والدین اپنی حیثیت کو دیکھتے ہوئے اپنی خوشی سے جو دینا چاہتے ہیں اور جتنا دینا چاہتے ہیں اپنی بیٹی کو دے سکتے ہیں۔ جہیز تو دور کی بات لڑکے والے رشتہ طے کرنے کے بعد مختلف موقعوں پر اپنا کوئی بھی عمل دکھاکر لڑکی والوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ بھی ان کیلئے اتنا ہی کریں۔ مثال کے طور پر عید کے موقع پر لڑکا اور لڑکی دونوں کو عیدی دی جاتی ہے۔ یہ برّصغیر کی رسموں میں سے ایک ہے۔ لڑکے کی طرف سے تحفہ چھوٹا ہو یا بڑا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا مگر لڑکی والے اگر لڑکے کو عید کا ایک چھوٹا سا تحفہ بھی دے دیں تو اس پر باتیں بننا شروع ہوجاتی ہیں۔ یہی معاملہ سالگرہ اور دوسرے موقعوں پر ہوتا ہے۔ یہ عام طور پر وہ گھرانے ہیں جو زیادہ پیسے والے ہوتے ہیں جن کا لائف اسٹائل مڈل کلاس ہی کیوں نہ ہو لیکن لڑکی اور والدین کیلئے ذہنی اذیت بن جاتی ہے۔ عید الفطر، عیدالاضحی یا سالگرہ کا موقع ہو تحفہ چھوٹا ہی سہی مگر اس میں محبت اور خلوص شامل ہونا چاہئے۔ اگر آپ کے پاس پیسہ زیادہ ہے تو پھر آپ اپنی محبت سے جو چاہیں جتنا چاہیں دے سکتے ہیں۔ اور اگر کم پیسے کی مجبوری سے نہ بھی دیا جائے تو اس کو بڑا مسئلہ بنا کر رشتے میں رکاوٹ یا اس کو ختم نہیں کرنا چاہئے۔ اب تک کی گئی باتیں زندگی کی حقیقت ہیں اور میرا مشاہدہ، احساسات بھی کہہ سکتے ہیں۔ جہیز دینے کی یہ رسم پاکستان اور ہندوستان کے علاوہ کہیں بھی نہیں پائی جاتی۔ جہیز دراصل ہندووں کی ایک رسم ہے۔ دراصل وہ وراثت میں لڑکی کو حصہ نہیں دیتے اور اس کی تلافی کرنے کے لئے وہ لڑکی کو شادی کے موقع پر خوب سارا جہیز دیتے ہیں۔ مگر اسلام نے لڑکی کا وراثت میں حصہ لازم قرار دیا ہے۔ جہیز کے نام پر ہم لوگوں نے نکاح کو مشکل بنا دیا ہے ۔ اس خوبصورت اور حسین رشتے کو جہیز کے نام پر اور کئی مطلبات پر لڑکی کے والدین کے لئے ذہنی اذیت بنا دیا ہے۔ لوگ کہتے ہیں جہیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ کو ان کے نکاح کے موقع پر کچھ ضروری اشیاء دی تھیں۔ لیکن چونکہ حضرت علی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچازاد بھائی تھے اور بچپن سے حضرت علی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سرپرستی میں تھے لہذا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کے برابر تھے۔ بچپن سے ان کے تمام اخراجات کی ذمہ داری آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تھی۔ اس لئے نیا گھر بسانے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سرپرست کے طور پر کچھ ضروری سامان دے دیا۔ وہ سامان جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ کو دیا تھا وہ روایت یہاں شامل کرنا چاہونگی: "حضرت علی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ کو جہیز میں ایک چادر، ایک مشکیزہ اور ایک چمڑے کا تکیہ دیا جس میں اذخر گھاس کا بھراو تھا۔" لیکن اس کے علاوہ تاریخ کی کسی کتاب سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اور صاحبزادیوں کو جہیز دیا ہو۔ کہتے ہیں کہ جب کسی کے گھر میں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو تب ہی سے اس کے لیے جہیز تیار کرنا شروع کر دینا چاہیے کیونکہ والدین کے ذہن میں ایک خوف پیدا ہوتا ہے کہ اگر بیٹی کو اچھا اور بہت زیادہ جہیز نہ دیا گیا تو ان کی بیٹی سسرال والوں کے طنز اور طعنوں کا کہیں نشانہ نا بن جائے۔ اب بات ہوتی ہے شادی بیاہ میں بہت سی رسوم و رواج اور خوب پیسا خرچ کرنے سے متعلق۔ شادی بیاہ کے موقع پر مختلف رسوم و رواج سے متعلق مشاہدے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ لوگ جن کے پاس اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی بہت دھوم دھام سے کرسکیں لیکن زمانے کی دوڑ ، جلن، حسد اور احساس کمتری کا شکار ہو کر لوگ زیادہ سے زیادہ اچھے فنکش انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے پیاروں کے احسانات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لڑکی کی شادی میں زیادہ پیسے نہ ہونے کے باعث لڑکی کے قریبی رشتہ دار چچا، ماموں تایا یہ شادی بیاہ میں ہونے والی تقاریب کے لیے کچھ رقم ادا کر دیتے ہیں لیکن بدلے میں گھر والے ساری زندگی کے لئے ان کے احسان مند ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ اللہ ہم پر جتنے بھی احسانات کرے، مہربانیاں کرے وہ مالک کبھی نہیں جتاتا۔ مگر ہم گنہگار انسان نیکی کرکے کسی نا کسی موقع پر، کسی بھی عمل سے جتا ہی دیتے ہیں۔ اگر لڑکا لڑکی دونوں کے گھر والوں کے پاس اگر زیادہ پیسہ ہے تو وہ اپنی مرضی سے خرچ کر سکتے ہیں کیونکہ مہندی اور دیگر رسوم و رواج تو سب ہی کو اچھی لگتی ہیں اگرچہ یہ دوسری قوموں سے آنے والی رسمیں ہیں لیکن اگر پیسے کی استطاعت زیادہ نہیں رکھتے تو کم لوگوں کو بلا کر سادگی سے نکاح کر دینا اور ولیمہ کی تقریب کر دینا بہت خوبصورت بات بھی ہے اور انداز بھی۔ اس میں نا لڑکے والوں کو کوئی گلہ شکوہ کرنا چاہیے اور نہ لڑکی اور اس کے گھر والوں کو۔ بلکہ ایک دوسرے کی مجبوری کو سمجھنا چاہئے۔ واضح رہے وہ نکاح زیادہ بابرکت ہے جس میں کم سے کم بوجھ ہو لہٰذا نمائش اور مقابلے کی دوڑ میں دھوم دھام سے شادی کرنا اور پیسہ خرچ کرنا مناسب نہیں بلکہ اعتدال کے ساتھ چلنا ہی زیادہ عقلمندی ہے چاہے امیر ہی کیوں نہ ہوں۔ جہیز کے معاملے میں گھر والے اپنی خوشی سے جو کچھ دینا چاہیں یا لڑکی اپنی خوشی سے جو کچھ لے کر جانا چاہے لے جا سکتی ہے لیکن وہ سب اپنی حیثیت کو دیکھتے ہوئے ہی ہو ۔ مگر ہمیں اپنی باتوں ، رویوں اور عمل سے مختلف مواقع پر یا نکاح کے موقع پر مختلف اشیاء، پیسوں یا جہیز کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے۔ وہ لوگ بہت ہی کم ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں جہیز نہیں چاہیے۔ خوب پڑھ لکھ کر، اچھا کمانے سے اچھا لباس پہننے سے، ہاتھ میں اچھی سے اچھی گھڑی پہن کر نہ کوئی لڑکا یا مرد موڈرن ہوجاتا ہے اور نہ خوب تیار ہو کر، اچھے لباس میں ملبوس، بال کھلے کوئی لڑکی یا شادی شدہ عورت ماڈرن جاتی ہے۔ یہ صرف فیشن کے لحاظ سے اچھا ہے۔ ماڈرن اور مہذب وہ انسان ہوتا ہے جس کی دنیا اچھی ہو اس کے اچھے طور طریقوں، اچھی سوچوں اور خیالات، اور اچھے اخلاق کی وجہ سے اور دین پر عمل کرکے اپنی زندگی کو اچھا اور آسان بنایا ہو، جو اپنی استطاعت کو دیکھتے ہوئے خرچ کرتا ہو۔ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی اس کی تلقین کیجئے۔ اور اپنی زندگی کے اس خوبصورت رشتے کو آسان بنائیے تب ہی ہم اپنی زندگی کو جنت بنا سکتے ہیں۔ آئیے ہم سب عہد کرتے ہیں کہ جہیز سے متعلق کوئی رسم کو ہم آئندہ نہیں اپنائیں گے۔


رشتوں میں اعتدال - کامیاب شادی شدہ زندگی

کوئی تبصرے نہیں

 


جابر رضي الله تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے خطبۃ الوداع کے موقع پر فرمایا:
( تم عورتوں کے بارے میں الله تعالی سے ڈرو ، بلاشبہ تم نے انہيں الله تعالی کی امان سے حاصل کیا ہے ، اور ان کی شرمگاہوں کو الله تعالی کے کلمہ سے حلال کیا ہے ، ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ جسے تم ناپسند کرتے ہو وہ تمہارے گھر میں داخل نہ ہو، اگر وہ ایسا کریں تو تم انہيں مار کی سزا دو جو زخمی نہ کرے اور شدید تکلیف دہ نہ ہو، اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہيں اچھے اور احسن انداز سے نان و نفقہ اور رہائش دو ) صحیح مسلممیں نے پوری ایمانداری سے حدیث شریف کوڈ کی ھے. عورت سے متعلق احکامات بالکل بھی حذف نہیں کیے. اگر حدیث شریف میں فرمایا گیا ھے کہ "انہیں مار کی سزا دو" تو ساتھ یہ بھی فرمایا گیا ھے کہ "ایسی مار ھو جو زخمی نہ کرے اور شدید تکلیف بھی نہ دے" یہ بھی بیوی کے حقوق میں سے ہے کہ خاوند اس کے لیے اپنی وسعت اور طاقت کے مطابق رہائش تیار کرے۔

 


 
۔۔ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے : تم اپنی طاقت کے مطابق جہاں تم رہتے ہو وہاں انہيں بھی رہائش پذیر کرو سورۃالطلاق (6) بیوی کا اپنے خاوند پر حق ہے۔ اگر اس کی اور بھی بیویاں ہوں تو وہ ان کے درمیان رات گزارنے، نان و نفقہ اور رہائش وغیرہ میں عدل و انصاف کرے۔ خاوند پر واجب ہے کہ وہ اپنی بیوی سے اچھے اخلاق اور نرمی کا برتاؤ کرے، اور اپنی وسعت کے مطابق اسے وہ اشیاء پیش کرے جو اس کے لیے محبت و الفت کا با‏عث ہوں. نہ کہ بیوی کو اھمیت ہی نہ دے. بات بےبات انتہائی دل سوز رویّہ اختیار کرے. اپنے سخت رویّے اور برے اخلاق سے بیوی کی سخت دل شکنی کرے۔۔۔ اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے : وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْـرُوْفِ ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَـعَسٰٓى اَنْ تَكْـرَهُوْا شَيْئًا وَّيَجْعَلَ اللّـٰهُ فِيْهِ خَيْـرًا كَثِيْـرًا (19) اور عورتوں کے ساتھ اچھی طرح سے زندگی بسر کرو، اگر وہ تمہیں نا پسند ہوں تو ممکن ہے کہ تمہیں ایک چیز پسند نہ آئے مگر الله نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھی ہو۔ الله نے اس زاویے کے مطابق بھی فرما دیا جو کسی بھی مرد کے دل میں آ سکتا ھے۔ کہ اگر کسی وجہ سے بیوی میں آپ کو اگر ایک چیز ناپسند ھو تو بھی صبر سے کام لو ھو سکتا ھے الله نے اسی چیز میں تمھارے لیے بھلائی رکھی ھو۔۔۔ ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ( عورتوں کے بارے میں میری نصیحت قبول کرو اور ان سے حسن معاشرت کا مظاہرہ کرو ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 3153 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1468 )۔ لہذا جو مرد جوائنٹ فیملی نظام کے تحت والدین، والدہ، بہن، بھابھی یا بیوی کے درمیان ہر ایک کے رشتے و منصب کے اعتبار سے حقوق ادا نہیں کرے گا۔ وہ بروز قیامت جوابدہ ھو گا. جوائنٹ فیملی نظام میں عموماً بیوی سب سے زیادہ استحصال کی شکار ھوتی ھے۔۔۔ والدین کے احسانات تو انسان ساری زندگی نہیں چکا سکتا. بہنیں بھی بہت عزیز ھوتی ھیں، بہنوں کا پیار بھی بےلوث ھوتا ھے. لیکن یاد رکھیے بیوی سے متعلق بھی اسلام نے سخت تاکید فرمائی ھے. کہ بیوی کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ اور اس کے تمام جائز حقوق ادا کرو. بیوی کی دل آزاری مت کرو۔ ۔۔ وہ جو تمھارے لیے اپنے والدین، اپنا گھر، اپنے تمام رشتے ثانوی درجے پر چھوڑ کر صرف تمھارے لیے نکاح جیسی شریعت کی مقدس ڈور سے بندھ کر تمھارے گھر آ جاتی ھے. تو پھر اس نئے رشتے کا پاس رکھنا بھی تمھارا ہی فرض ھے. اس نئے بندھن کو محبت، احساس اور خوبصورت رویّے کے ساتھ مضبوط تر کرنا مرد ہی کی اوّلین ذمہ داری ھے۔ یاد رکھیے کامیاب انسان وہی ھوتا ھے جو محبتوں اور رشتوں میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ مٹھاس پیدا کرتا ھے۔۔۔ ان تمام رشتوں میں اگر بیوی کا رشتہ خون کا رشتہ نہیں ھے تو اس کا غیر اھم یا آخری قدر پر مت رکھو بلکہ بیوی تمھاری دنیا کی بہترین ساتھی ھے جس کو الله نے تمھارے لیے منتخب کیا ھے۔ بیوی کے الگ سے بہت اھم حقوق ھیں۔ جبھی تو نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے خطبہ حجة الوداع میں اپنی عورتوں سے اچھا برتاؤ کرنے کی تاکید فرمائی تھی۔۔۔ تمام رشتوں میں محبت اور عتدال کا معاملہ کر سکنے والا مرد ہی دراصل مرد کہلاتا ھے. جس مرد میں اتنی بھی اہلیت نہیں کہ ماں بہن بیوی اور بھابھی کی موجودگی میں چاروں رشتوں کو ان کے حقوق و منزلت کے مطابق عزت دے سکے وہ یقین کیجیے واقعی مرد کہلانے کے قابل نہیں ھے۔ ۔۔ لہذا بشمول میرے تمام مرد حضرات کو اس نکتے پر غور و خوض کرنی چاھیئے اور اپنے کردار و رویّے سے تمام رشتوں کے دل جیت سکنے والا بن کر رہنا چاھیئے اگر دل جینا ممکن نہ بھی ھو تو کم از کم کسی رشتے کی دل آزاری مت کرے، کیونکہ تمام ہی رشتے اھم اور اپنے اپنے دائرہ کار میں لازم ھیں۔۔۔


"عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھا کرو تم اسی کے ذریعے دنیا میں آئے ہو"

کوئی تبصرے نہیں

 


عورت بلاشبہ اللہ کی ایک بہترین تخلیق ہے لیکن ازل سے ہمیشہ تنقید کا نشانہ یا ظلم کا شکار رہی ہوتی چلی آئی ہے اپنے وجود میں آنے کے کچھ عرصے بعد ہی جنت سے نکلوانے کا الزام لگ گیا جس نے بہکایا اس کی طرف کسی نے دیکھا بھی نہیں لیکن جو بہکاوے میں آ گئ اسے صفائی کا موقع تک نہیں ملا عورت کو زحمت سمجھا گیا بےوقوف کہا گیا گھر میں بوجھ قرار دیا گیا حتیٰ کے دور جاہلیت میں بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا ستی کی رسم عام تھی جبکہ اس دور میں بھی خون بہا کے بدلے میں بچیوں اور عورتوں کے لئے ونی جیسی رسم موجود ہے قبائلی علاقوں میں آج بھی جائیداد کی خاطر عورتوں کا نکاح قرآن پاک سے کردیا جاتا ہے انہی منفی رویوں کی بدولت خواتین کے حقوق اور ان کا تحفظ سلب کئے جانے کا سلسلہ تاحال جاری ہے
 
آج خواتین تقریبا ہر پروفیشن میں قدم رکھ چکی ہیں چاہے وہ ڈاکٹر ہو یا انجینئر استاد ہو یا رائٹر جرنلسٹ ہو یا پائلٹ یا سیاست اور میڈیا خواہ ہر میدان میں مرد کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں مگر اتنی بلندیوں پر پہنچ کر بھی اپنے حقوق اور عزت کو مرد کی غلیظ نظر محفوظ نہ کر سکی۔ دورِ جدید میں حوا کی بیٹی محفوظ نہیں آج بھی آسمان کو چھونے والی خواتین کو زمین پر پٹخ دیا جاتا ہے جبکہ عورت تو نازک پھول کی مانند ہے جو چھونے سے اور ٹہنی سے توڑنے پر مرجھا جائے ان کا تحفظ انتہائی ضروری ہے عورت کے کئی روپ ہیں جن میں بیک وقت ماں ہے تو جنت بہن ہے تو عزت بیوی ہے تو گھر کی زینت اور بیٹی ہے تو رحمت پس ان تمام حوالوں کے پیش نظر وہ ہر درجہ عزت و وقار اور مرتبے کے قابل ہوتی ہے اسی فطری ضرورت کے پیش نظر اسلام عورت کی عزت کی تاکید کرتا ہے کیونکہ یہ حوّا کی بیٹی کا معاملہ ہے 8مارچ دنیا بھر میں عورتوں کے لیے اتحاد و یکجہتی اور جہد مسلسل کی علامت ہے یہ دن خواتین کے حقوق کی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے آٹھ مارچ کو خصوصاً خواتین کا دن مقرر کیا گیا ہے مگر ان کے حقوق اور تحفظ کیلئے صرف ایک دن مختص کر دینا کافی نہیں بلکہ تب تک ان کے تحفظ کیلئے اقدامات کرنے چاہیے جب تک وہ مکمل طور پر معاشرے میں محفوظ نہ ہو سکیں۔ اسلام تو عورت کی عزت اور توقیر کا درس دیتا ہے عورت کی عزت و وقار کا تحفظ اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ ایک عورت کی بے توقیری اور بھی عزتی بیک وقت کئی حوالوں سے معاشرے کے دیگر افراد کو براہ راست متاثر کرتی ہے اگر غیر جانبداری کی عینک سے دیکھا جائے تو ماضی میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال قابل دید اور قابل تعریف نہیں رہی انسانی حقوق کی پامالی کی صورت میں عورتیں زیادہ متاثر ہوئی ہیں گھر سے باہر نکل کر کام کرنے والی عورتیں دور جدید میں بھی غلیظ نظریں تضحیک اور تحقیر آمیز جملے برداشت کرتی ہیں کیونکہ تاحال ہمارا معاشرہ مرد کا ہے اور حوّا کی بیٹی غیر محفوظ ہے عورت کی عزت و توقیر حتی کے معصوم ننھی کلیوں کو روند دیا جاتا ہے اسی لیے خواتین کا تحفظ ملکی معاشرتی اور سماجی ترقی کے لئے انتہائی ضروری ہے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا خواتین کے خلاف تشدد اور ان کے تحفظ کیلئے کئے گئے خطاب میں سے چند اہم نکات قابل ذکر ہیں ۔ غیرت کے نام پر قتل اور زیادتی اور ہراساں کرنے کے واقعات کا خاتمہ ضروری ہے عورتوں اور بچوں کےخلاف جرائم کا خاتمہ کرنا ہوگا پارلیمنٹ میں عورتوں کے خلاف جرائم روکنے کے لیے موثر قوانین بنائے جائیں عورتوں اور بچوں کے خلاف مقدمات کا فیصلہ چھ ماہ میں ہوجانا چاہیے خواتین کو شریعت کے مطابق ان کا وراثت میں حصہ ملنا چاہئے خواتین کو بااختیار بنائے بغیر اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے ان معاملات پر حکومت اور اپوزیشن کو مل کر کام کرنا چاہیے سماجی مسائل پر میڈیا کو اہم کردار ادا کرنا چاہیے عورت مرد کے ہم پلہ ہونے کی سعی میں اپنا مقام کھوتی جا رہی ہے اسی لئے مرد اور معاشرے کو مل کر ان کا تحفظ کرنا ہوگا میرا ایک سوال ہے خدا جانے یہ مرد کی کون سی قماش ہے جو کبھی باپ بن کر ظالم بن جاتا ہے تو کبھی شوہر اور بھائی بن کر اپنے غصے کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے یہ کیوں اپنی نام نہاد اناء کو عورت کا خون پلاتے رہتے ہیں کیوں عزت عزت کہہ کر عورت کے ماتھے پر بےعزتی کا داغ لگا دیتے ہیں کیا سکون ملتا ہے معصوم چہروں کو تاریکی کی چادر میں چھپا کر یہ نام نہاد مرد کیوں نہیں سمجھتے کہ ہم عورتیں بھی انسان ہیں نرم احساسات رکھنے والی مخلوق تلخ لہجوں سے مر جانے والی تو پھر یہ کیوں ٹہنی سے توڑ کر روند دیتے ہیں کچل دیتے ہیں عورت کا تحفظ یقینی بنانا تو مرد کی صفت میں رگِ خون کی مانند ہونا چاہیے جو کہ اب تو ناپید ہوچکا ہے عورت کا استحصال بند کریں اتنی سی دعا ہے کہ کبھی کسی بیٹی پر کوئی داغ نہ لگے آمین! وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِدروں


اسلام میں خواتین کے حُقوق کا تحفظ اور اُن سے حُسنِ سلوک کی تعلیم

کوئی تبصرے نہیں

 


احترام انسانیت اور انسانی حقوق کے تاریخ ساز چارٹر خطبۂ حجۃ الوداع میں محسن انسانیتﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’لوگو! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو اور ان کے ساتھ بھلائی کرنے کی میری وصیت قبول کرو۔‘‘ جب کہ اسلام کی آمد سے قبل مالی میراث کے بارے میں عرب اہل جاہلیت کا یہ نظریہ تھا کہ جائیداد کا وارث اور حق دار صرف اور صرف مرد ہے۔ اس لیے کہ وہ گھوڑے پر سوار ہوتا ہے، اسلحہ اٹھاتا ہے، جنگ کرتا ہے ،جب کہ عورتیں ان صفات سے محروم ہیں، لہٰذا وہ وارث بننے یا ورثہ کی حقدار نہیں ہوسکتیں۔پھر اسلام کا عظیم الشان دور آیا، جو سسکتی انسانیت کے لئے مسیحا ثابت ہوا، مرد و زن کو اس مثالی دین نے وہ احکام اور تعلیمات دیں جو دونوں کی جسمانی اورحیاتیاتی سانچوں کے عین مطابق ہیں۔
عورت کو آدھی دنیا کہاگیا، اور کہاجاتا ہے، اس لئے اسے کسی بھی سماج کے لیے نظر انداز کرنا آسان نہیں ، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عورت انسانی حیات کی گاڑی کا لازمی پہیہ ہے، لیکن انسانی تاریخ کا یہ المیہ ہے کہ آدھی دنیا ہونے کے باوجود اسے وہ اہمیت و حیثیت نہیں دی گئی، جس کی واقعتاً وہ مستحق تھی، جس طرح قدیم تہذیب و تمدن (یعنی اسلام کی آمد سے قبل) نے عورت کے وقار کو تباہ کیا، اسی طرح جدید تہذیب نے بھی اسے شو پیس بنایا، اشتہاری مہم میں استعمال تو کیا ،لیکن اسے عزت نہیں بخشی ۔آج یورپ حقوق نسواں اور آزادی نسواں کا علم بردار بنا ہوا ہے، حقیقت میں انہوں نے عورت کو معاشرے میں اُس کا جائز مقام دلوانے کے بجائے اُسے انتہائی گھٹیا انداز میں پیش کیا ،جب کہ انسانی حقوق کے سب سے بڑے علم بردار نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپﷺ کی آمد سے پہلے عورت معاشرے کا ایک انتہائی پسماندہ اور محکوم طبقہ سمجھی جاتی تھی، اُسے معاشرے میں کوئی عزت اور مقام حاصل نہیں تھا، لیکن اسلام نے اپنی آمد کے ساتھ عورت کو معاشرے میں نہ صرف جینے کا حق دیا، بلکہ اُسے اُس کا جائز مقام دلوایا اور مردوں پر عورتوں کے متعدد حقوق عائد کیے ۔چناںچہ اسلام نے ماں کے روپ میں عورت کا درجہ اس طور پر بلند کیا کہ ماں کے قدموں تلے جنت قرار دی ،اس کے ساتھ ساتھ باپ کے مقابلے میں ماں کا درجہ تین درجے بلند کیا۔ماں کے حق کے حوالے سے تفسیرابن کثیر میں ہے کہ ایک شخص اپنی والدہ کو کمر پر اٹھائے ہوئے طواف کررہا تھا، اس نے حضور اقدس ﷺسے عرض کیا کہ کیا میں نے اس طرح خدمت کرتے ہوئے اپنی والدہ کا حق ادا کردیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک سانس کا حق بھی ادا نہیں ہوا۔اسی طرح اسلام نے عورت کو بیوی کا درجہ دے کر اس قدر اُس کی شان بڑھائی کہ اللہ رب العزت نے اپنی کتاب مبین میں عورتوں کے حقوق مردوں کے برابر فرمائے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے،’’اور عورتوں کا دستور کے مطابق مردوں پر ویسا ہی حق ہے جیسے مردوں کا عورتوں پر حق ہے اور مردوں کو اُن پر ایک منزلت حاصل ہے اور یہ منزلت اللہ رب العزت نے مردوں کو عورتوں پر اس لیے عطا فرمائی ہے کہ وہ عورتوں کی نگرانی،اُن کی نگہبانی اور اُن کے نان نفقے کی ذمے داری بہتر طور پر انجام دیں۔‘‘(سورۃ البقرہ)جب کہ اللہ کے رسول ﷺنے عورتوں کے ساتھ متعدد موقعوں پر اچھے برتاؤ کی تلقین کی ہے ۔ جامع ترمذی میں آپﷺ کا ارشاد ہے:’’ تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ معاملات میں اچھے ہیں‘‘ اسی طرح پیغمبر اسلام ﷺنے عورت کو ،ماں،بہن ،بیوی اور بیٹی کے روپ میں اعلیٰ مقام دیا،بیٹی کی پرورش کرنے اور بلوغت کے بعد اُن کی رخصتی کردینے کی صورت میں جنت میں ساتھ رہنے کی ضمانت عطا فرمائی ،چناںچہ بخاری میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جس نے دو یا تین بیٹیوں کی یا دو یا تین بہنوں کی پرورش کی اور وہ اُن کی ذمے داریوں کو نبھاتا رہا، یہاں تک کہ وہ اُس سے شادی کردینے کی صورت میں یا فوت ہوجانے کی صورت میں جداہوئیں تو میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح ساتھ ہوں گے جس طرح میری یہ دو انگلیاں ،آپ ﷺنے اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔اسی طرح مشکوٰۃ شریف میں ایک روایت اس طور پر نقل کی گئی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا جو شخص بھی لڑکیوں کی پیدائش کی ذمے داریوں کے ذریعے آزمایا گیا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرکے آزمائش میں کامیاب ہوا تو یہ لڑکیاں اُس کے لیے قیامت کے دن جہنم کی آگ سے ڈھال بن جائیں گی۔ جوں جوں زمانہ ترقی کرتا رہا، اسلام مخالف سرگرمیوں میں بھی اضافہ اور نت نئے طریقے ایجاد ہوتے رہے، مغرب نے اسلام کے ہراس نظریے کو مٹانے اور داغ دار کرنے کی پوری کوشش کی، جس کے زیر اثر ایک صحت مند انسانی تہذیب سانس لے رہی تھی۔ یورپ نے اسلامی نظریات و تعلیمات کے مقابل اپنے غیرمتوازن نظریات کو لاکھڑا کیا، اس کی ظاہری چمک دمک دکھاکر سادہ دل انسانوں کو پھانسنے کی بھرپور کوشش کی۔وہ دور رس منفی نتائج سے بے خبر جدید تہذیب کے بہاؤ میں بہتے چلے گئے۔ اس تہذیب سے جتنا نقصان عورت کی ذات کو پہنچا ،کسی اور کو نہیں پہنچا۔ عورت کو گھروں سے نکال کر عام شاہراہوں پر نمائش کے لیے لاکھڑا کیا، اسلام نے اس کے برعکس اسے عزت وعظمت عطا کی۔ اسلام میں عورتوں کو دینی اور دنیوی علوم سیکھنے کی نہ صرف اجازت دی گئی ہے، بلکہ ان کی تعلیم و تربیت کو اسی قدر ضروری قرار دیاگیا ہے جس قدر مردوں کی تعلیم و تربیت ضروری ہے، رسول اللہ ﷺ سے جس طرح دین واخلاق کی تعلیم مرد حاصل کرتے تھے ،اسی طرح عورتیں بھی حاصل کرتی تھیں، آپ نے ان کے لئے اوقات متعین فرمادئیے تھے ،جن میں وہ آپ سے علم حاصل کرنے کےلیے حاضر ہوتی تھیں، آپ ﷺکی ازواج مطہراتؓ اور خصوصاً حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نہ صرف عورتوں کی بلکہ مردوں کی بھی معلّمہ تھیں، اور بڑے بڑے صحابہ و تابعین ان سے حدیث، تفسیر، فقہ کی تعلیم حاصل کرتے تھے، اشراف تو درکنار نبی ﷺ نے لونڈیوں تک کو علم اور ادب سکھانے کا حکم دیا۔ اسلامی نقطۂ نظر سے عورت کی صحیح تعلیم و تربیت وہ ہے جو اسے ایک بہترین بیوی، بہترین ماں،اور بہترین گھروالی بنائے۔ اس کا دائرئہ عمل گھر ہے، اس لئے خصوصیت کے ساتھ ان علوم کی تعلیم دی جانی چاہیے جو اس دائرے میں اسے زیادہ مفید بناسکتے ہیں، مزید برآں وہ علوم بھی اس کے لئے ضروری ہیں جو انسان کو انسان بنانے والے اور اس کے اخلاق کو سنوارنے والے اوراس کی نظر کو وسیع کرنے والے ہیں۔ ایسے علوم اورایسی تربیت سے آراستہ ہونا ہر مسلمان عورت کے لئے لازم ہے۔ اس کے بعداگرکوئی عورت غیرمعمولی عقلی و ذہنی استعداد رکھتی ہو، اور ان علوم کے علاوہ دوسرے علوم و فنون کی اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کرنا چاہے تواسلام اس کی راہ میں مزاحم نہیں ہے۔اسلام کا خاندانی نظام عورت کے تحفظ کا ضامن ہے،اسلام ہر حیثیت میں عورتوں کے حوالے سے حسن معاشرت اور ان کے تحفظ کا علم بردار ہے،عورتوں سے حسن سلوک کی تعلیم قرآن وسنت میں جابجا دی گئی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام، حضرت محمدﷺ نے خواتین کے حقوق اور ان سے حسن سلوک کے حوالے سے جو تعلیمات انسانیت کو دی ہیں ،دنیا کا کوئی مذہب ،کوئی معاشرہ اور کوئی قانون اس کی برابری نہیں کرسکتا۔


’خواتین کے لیے مساوات نسلوں کے فاصلے پر ہے‘

کوئی تبصرے نہیں

جمعہ، 24 جنوری، 2020




برطانوی رفاہی ادارے فوسیٹ سوسائٹی نے کہا ہے کہ سیاست، قانون، ٹریڈ یونین، سول سروس، رفاہی اداروں، پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں اور کھیلوں میں خواتین کی کم نمائندگی ’قائم و دائم‘ ہے۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ممتاز فلاحی ادارے کی رپورٹ بعنوان ’صنف اور اختیارات کا اشاریہ‘ برائے 2020 سے پتہ چلا ہے کہ غیرسفید فام خواتین کے لیے صنفی مساوات کی صورت حال ’چونکا دینے کی حد تک‘ خراب ہے اور بہت سے شعبوں میں اعلیٰ عہدوں پر خواتین کی موجودگی کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

فوسیٹ سوسائٹی کی سربراہ سام سمیتھرز کا کہنا ہے کہ ’بڑے عہدوں پر خواتین کی تعیناتی کی اہمیت کے بارے میں باتیں تو بہت کی جاتی ہیں لیکن آج کا ڈیٹا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم صنفی مساوات کے قریب جانے میں کئی نسلیں پیچھے ہیں۔ ہم خواتین کی قابلیت اور مہارتوں کو ضائع کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’خواتین کی نمائندگی کے معاملے میں چھوٹی موٹی اضافی تبدیلیاں کافی نہیں ہیں۔ ہمیں کئی سال سے بتایا جا رہا ہے کہ خواتین کے لیے برابری تھوڑے وقت کی بات ہے اور ہمیں صبر کرنا چاہیے، لیکن یہی شرح رفتار رہی تو ہمارے پڑپوتے وہ ڈیٹا تیار کر رہے ہوں گے جس سے ظاہر ہوگا کہ عوامی اور کاروباری زندگی کے بڑے عہدوں پر خواتین موجود نہیں ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ حقیقی تبدیلی اسی صورت میں آتی ہے جب اسے لانے کی نیت ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ خواتین کے لیے مخصوص کوٹہ اور اہداف اور پالیسیاں مرتب کی جائیں تاکہ ان کی ترقی کی حال میں حائل رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔‘
مزید
© تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
تیارکردہ محمد منشاہ محسن 03007832941